Features Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ
فرہنگِ آصفیہ اردو کی پہلی مکمل اور باقاعدہ لغت ہے۔ یہ 1878ء میں ارمغانِ دہلی کے نام سے ایک کی شکل میں قسط وار چھپتا شروع ہوئی تھی۔ بعد میں اس کے مولف مولوی سید احمد دہلوی کو ریاستِ دکن کی سرپرستی حاصل ہو گئی تو انھوں نے نظام حیدرآبادمحبوب علی خان کے لقب آصف کی نسبت سے اس کا نیا نام فرہنگِ آصفیہ قرار دیا۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اردو کی کسی اور لغت کو ایسی شہرت اور قبولِ عام نصیب نہیں ہوا جیسا اس کے حصے میں آیا ہے۔خصوصیات کا مختصر جائزہاردو کی پہلی باقاعدہ، مکمل اور جامع لغت ہے۔بعض اندراجات کا بیان قاموسی (encyclopedic) انداز میں نہایت تفصیل سے کیا گیا ہے۔تہذیبی اعتبار سے اردو زبان اور ثقافت کی قیمتی ترین دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔22 ہزار کے قریب اشعار مختلف الفاظ و تراکیب کے لیے بطور سند کے درج کیے گئے ہیں۔فحش الفاظ کی کثرت کے سبب تنقید کا ہدف رہی ہے۔بہت سے الفاظ، تراکیب، امثال اور محاورات وغیرہ ایسے ہیں جو اور لغتوں میں نہیں ملتے۔زبان و بیان کے اعتبار سے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ یعنی جو کچھ اس میں بیان کر دیا گیا ہے اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔مولوی سید احمد دہلوی1844ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبا و اجداد عرب سے ہندوستان وارد ہوئے تھے۔ سات برس تک ایک انگریز مستشرق اور لغت نویس ڈاکٹر فیلن کے ساتھ کام کیا۔ یہاں سے انھیں خیال پیدا ہوا کہ اردو میں بھی لغت نویسی کے جدید اصولوں کے مطابق ایک لغت مرتب کرنی چاہیے۔ چنانچہ فرہنگِ آصفیہ کی پہلی دو جلدیں 1888ء میں شائع کیں۔ تیسری 1898ء اور آخری یعنی چوتھی جلد 1902ء طبع ہوئی۔
Secure & Private
Your data is protected with industry-leading security protocols.
24/7 Support
Our dedicated support team is always ready to help you.
Personalization
Customize the app to match your preferences and workflow.
See the Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ in Action
Get the App Today
Available for Android 8.0 and above